چین اور بھارت کو باہمی اسٹریٹجک اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت، چینی صدر
بیجنگ:یکم اپریل کو چین اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترہویں سالگرہ ہے۔ اس مناسبت سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے بھارتی صدر دروپدی مُرمو سے تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔
شی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور بھارت دونوں قدیم تہذیبیں، بڑے ترقی پذیر ممالک اور "گلوبل ساؤتھ” کے اہم رکن ہیں اور دونوں اپنی جدیدکاری کے ایک اہم دور میں ہیں. چین بھارت تعلقات کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ باہمی کامیابی میں شراکت دار بننا فریقین کے لئے درست انتخاب ہے جو دونوں ممالک اور ان کے عوام کے بنیادی مفادات کے عین مطابق بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فریقین کو چین بھارت تعلقات کو اسٹریٹجک بلندی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھنا اور استوار رکھنا چاہئیے ، ہمسایہ بڑے ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی، باہمی اعتماد، باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کی راہیں تلاش کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور مشترکہ طور پر کثیر قطبی دنیا اور بین الاقوامی تعلقات کے جمہوری عمل کو فروغ دینا چاہئے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین باہمی اسٹریٹجک اعتماد کو بڑھانے ، مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانے ، اہم بین الاقوامی امور میں کمیو نیکیشن اور کوآرڈینیشن کو گہرا کرنے ، چین بھارت سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنے ، چین بھارت تعلقات کی مستحکم ترقی کو فروغ دینے اور عالمی امن و خوشحالی میں خدمات سرانجام دینے کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
اسی دن چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔