News Views Events

ہانگ کانگ پالیسی ایکٹ 2025: چین نے امریکی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے دیا

0

ہانگ کانگ میں امریکی مداخلت، ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی امریکی سازش کو بے نقاب کرتی ہے، چینی وزارت خارجہ
بیجنگ:امریکی محکمہ خارجہ نے "ہانگ کانگ پالیسی ایکٹ 2025 ” نامی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں 6 چینی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے یکم اپریل کو وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر جھوٹ اور غلط بیانی سے بھر پور نام نہاد "رپورٹ” جاری کی ہے۔ یہ گھٹیا حرکت چین کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت ہے جو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ، ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور چین کی ترقی کو روکنے کے گھناؤنے امریکی عزائم کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے اور چین اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے ۔
امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے اس بیان کے جواب میں جس میں انہوں نے کچھ چینی افسران پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، گو جیاکھون نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام شی زانگ کے معاملات اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے جو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین اس کی سخت مذمت اور مخالفت کرتا ہے ۔گو جیا کھون نے کہا کہ شی زانگ سب کے لئے کھلا ہے جہاں کبھی غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی کے قوانین نہیں رہے ۔ شی زانگ میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں جنہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔اس کا ثبوت 2024 میں شی زانگ میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 20 ہزار غیر ملکی سیاحوں کی آمد ہے ۔چینی وزار ت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شی زانگ کے خاص جغرافیائی اور موسمی حالات سمیت تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، چینی حکومت قوانین و ضوابط کے مطابق غیر ملکیوں کے شی زانگ میں داخلے پر کچھ انتظامی اور حفاظتی اقدامات اختیار کرتی ہے جو ضروری ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.