روس اور یوکرین کا ایک دوسرے پر توانائی سہولیات پر حملے کا الزام
روسی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے پہلے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملے جاری رکھے ہیں۔ اسی دن یوکرین کی طرف سے بھی روس پر توانائی کے سہولیات پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق، 30 مارچ کی رات کو بریانسک اوبلاست میں متعدد توانائی کی سہولیات پر یوکرینی حملوں کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ یوکرین نے اس سے قبل توانائی کی سہولیات کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس کے مسلح دستے اب بھی روسی علاقے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہے ہیں۔
یوکرین کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر اینڈری یرمک نے 31 مارچ کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ روس نے توانائی سہولیات پر فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور شہریوں کو نشانہ بنا کر اور محاذ پر جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے میں تاخیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین مکمل فائر بندی کی حمایت کرتا ہے اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے تیار ہے، جبکہ روس جنگ جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔