انسانیت کے ہم نصیب معاشرہ کا مستقبل سب کے لئے ہے، چینی میڈیا
انسانیت کے ہم نصیب معاشرہ کا مستقبل سب کے لئے ہے، چینی میڈیا
بیجنگ () 12 سال قبل 23 مارچ کو چینی صدر شی جن پھنگ نے روسی فیڈریشن کی وزارت خارجہ کے ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں تقریر کرتے ہوئے پہلی بار دنیا کے سامنے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کا تصور پیش کیا تھا۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران صدر شی جن پھنگ نے متعدد اہم بین الاقوامی مواقع پر انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور کی وضاحت کی ہے، اور چین کی "پائیدار امن، عالمگیر سلامتی، مشترکہ خوشحالی کے ساتھ ایک کھلی، اشتراکی، صاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر” کی تجویز کو پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شی جن پھنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی تجویز پیش کی ہے، جس سے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کی فلاسفی اور عملی راستے کو بخوبی واضح کیا گیا ہے۔
گزشتہ 12 برسوں کے دوران انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کا تصور وژن سے عمل تک،اور انیشی ایٹو سے اتفاق رائے تک پہنچ گیا ہے، جس میں 100 سے زائد ممالک نے "تھری گلوبل انیشی ایٹوز” کی حمایت کی ہے اور دنیا کے تین چوتھائی سے زائد ممالک بیلٹ اینڈ روڈ خاندان میں شامل ہوئے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو احساس ہے کہ عالمی ترقی اور سلامتی کے مسائل کے پیش نظر ،کوئی بھی ملک علہدگی میں محفوظ نہیں رہ سکتا اور اگر کوئی ملک خود کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اسے دوسروں کو ترقی کا راستہ فراہم کرنا ہوگا۔ اگر آپ خود محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو دوسروں کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اگر آپ خود اچھی طرح سے جینا چاہتے ہیں، تو آپ کو دوسروں کو اچھی طرح سے جینے دینا ہوگا.
بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تکمیل کے لئے مل کر کام کرنے سے ہی سب کے لئے ایک ہم نصیب دنیا اور ہم نصیب مستقبل تخلیق ہو سکتا ہے۔