اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینیوں قیدیوں کی رہائی کے بدلے نئی شرط رکھ دی
تل ابیب:اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ حماس نے بار بار "اسرائیلی قیدیوں کی تذلیل” کے لئے جشن کی تقریبات منعقد کیں اور اسرائیلی قیدیوں کو "پروپیگنڈے” کے لئے استعمال کیا، جس کی وجہ سےاسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، اور متعلقہ فلسطینی قیدیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کرے گا جب تک کہ اسرائیلی اہلکاروں کی اگلی کھیپ کو کامیابی سے رہا نہیں کیا جاتا اور حماس اسی طرح کی "توہین آمیز جشن” منانے کے عمل کو بند نہ کردے۔
22تاریخ کو فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے ترجمان عبداللطیف کانو نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں اسرائیل کی تاخیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور حماس ثالث سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل پر فائر بندی معاہدے کی پاسداری اور اس کی شرائط پر عمل کرنے کیلئے ڈباؤ ڈالے۔رواں سال جنوری میں شروع ہونے والے غزہ کی پٹی میں فائر بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل کو اسی دن 602 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیئے تھا۔دریائے اردن کے مغربی کنارے کے لئے حماس کے رہنما زاھر جبارین نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نےعدالتی مقدمات سے بچنے کے لیے فائربندی روک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ فائر بندی کے دوسرے مرحلے کے لئے تیار ہے۔