عمران ریاض جیسے ’ناسور‘ کو بے نقاب کرنا فرض سمجھتا ہوں، شیر افضل مروت
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سابق رہنما اور ممبر اسمبلی شیر افضل مروت نے یو ٹیوبر عمران ریاض کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران ریاض کا کافی حد تک احترام کیا لیکن اب عمران ریاض جیسے ’ناسور‘ کو بے نقاب کرنا فرض سمجھتا ہوں۔
ہفتہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران ریاض نے میرے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کہتا ہے کہ ’ شیر افضل مروت مجھ سے ٹھیکہ مانگ رہا تھا‘ لیکن علی امین گنڈا پور نے تو خود مجھ سے کہا ہے کہ عمران ریاض خود مائنز کا ٹھیکہ مانگنے کئی بار میرے پاس آیا ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ میں خود جب بھی وزیر اعلیٰ ہاؤس گیا ہوں میں نے عمران ریاض کو وہاں بیھٹے ہوئے پایا ہے، وہاں اسے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں رہائش دی گئی تھی۔
شیرافضل مروت نے دعویٰ کیا کہ عمران ریاض ہیرو بننے کے لیے خود گرفتار ہوا، اس کو ملی بھگت کے ساتھ خاندان سمیت غائب رکھا گیا تھا، اس کی زبان بھی زخمی نہیں ہوئی تھی، اگر زبان کا علاج کرایا ہے تو کہاں سے کرایا، اس کی کوئی تفصیل نہیں دی ہے۔
ان کہنا تھا کہ ’پھر علی امین گنڈاپور نے ہی ہمیں کہا کہ ایک ہفتے میں اس کی زبان کیسے ٹھیک ہو گئی‘، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیض حمید نے چکوال میں اسے 6 سو کنال زمین دلائی، جہاں فش فام ہے، وہاں اس نے ایک محل بنایا ہے اور اصطبل بھی بنایا ہے۔
شیر افضل مروت نے سوال کیا کہ اس بندے کے پاس تو ایک موٹر سائیکل نہیں تھا پھر اس نے اتنے اربوں روپے کہاں سے کمائے؟۔ علی امین کا کہنا ہے کہ عمران ریاض فیض حمید کا دست راس تھا۔ پی ٹی آئی کے دور میں ایجنسیوں کے ساتھ اس کے بہت گہرے تعلقات تھے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ خچروں کی تصویریں اس نے پہلے سے رکھی ہوئی تھیں اور بعد میں دعویٰ کیا کہ میں خچروں کے ذریعے بھاگا، حکومت اس کو نہ بھاگنے دیتی تو ایک منٹ میں اس کا پاسپورٹ بلاک ہوتا، آپ لندن کیسے پہنچتے؟ ۔
انہوں نے کہا کہ عمران ریاض کو ہدف دیا جاتا ہے کہ ’فلاں‘ کو تخت مشق بنانا ہے، میں نے عمران ریاض کی جائیداد پر ویڈیو بنائی ہے پھر مجھے اس کے اور بہت سارے کارناموں کا علم ہوا ہے جو ایک 2 روز میں میڈیا کے سامنے لے آؤں گا۔
اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ ’میں خود پی ٹی آئی ہوں‘ ، کارکن میرے ساتھ ہیں، بانی اگر 6 یا 7 لوگوں کے کان بھرنے پر مجھے نکالنے کا فیصلہ کریں تو اس کی کیا اہمیت ہوگی؟
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس مخصوص 8، 10لوگ جاتے ہیں، وہی چپاتیاں پکا رہے ہیں، بانی کے کان بھرتے ہیں، کسی کو وزارت، کسی کو ریجنل صدور بناتے ہیں اور کسی کو گراتے ہیں، کے پی کی پوری کابینہ اور پی ٹی آئی عہدیدار ان لوگوں کے ہاتھوں ذہنی مریض بن چکے ہیں، یہ لوگ انہیں بلیک میل کرتے ہیں کام نہ کریں تو بانی سے شکایت لگاتے ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیر افضل مروت کہا ہے کہ کمپنی نے ہمارا ستیا ناس کیا ہوا ہے، سلمان اکرم راجا قبضہ مافیا کے ماؤتھ پیس ہیں، ہم آئین پاکستان کی بالادستی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اپنی جماعت پر سلمان اکرم جیسے لوگوں کو جگہ نہیں دوں گا، ان کی کیا خصوصیت ہے جو سیکرٹری جنرل بنا، سلمان اکرم راجا ایک سیٹ پر بھی نہیں جیتے ہیں، میں ان کو بتاؤں گا کہ ڈسپلن ہوتا کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بانی کا پرچم لے کرملک کے کونے کونے میں گئے، مجھ پرغداری کا فتوی جاری کیا گیا، سلمان اکرم اینڈ کمپنی نے مجھے کئی بار پارٹی سے نکلوایا، مخصوص اور محدود لوگ ہی بانی سے ملاقات کرتے ہیں، یہ لوگ ہی لوگوں کو لگواتے اور ہٹوا رہے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ جنید اکبرنے اور میں نے مشکل وقت ساتھ گزارا ہے، جنید اکبر نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں، عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں، انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن کا ہر تھانہ بھگتا ہے، میں نے ان کے لئے بھرپور آواز اٹھائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ برے دنوں کا ساتھی ساتھ نہیں چھوڑتا ہے، بانی نے خود کہا تھا کہ کیا ہم کوئی غلام ہیں، بانی کے الفاظ ہیں کہ غلط فیصلے کروں تو مجھے بھی جواب دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہم سے غلط فیصلے ہوئے، بزدار، پرویز خٹک اور محمود خان جیسے لوگ پارٹی پر تھوپے گئے، اگر اس وقت اختلاف کی آواز اٹھتی تو غلط فیصلے نہ ہوتے۔
شیر افضل مروت کا کہناتھا سلمان اکرم کی ایما پر پروپیگنڈا مشینیں بھی لگی ہوئیں تھیں، میں نے پارٹی فنڈز سے ڈیجیٹل میڈیا اور وکلا فیسوں کی ادائیگی کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا تھا، اس لیے مجھے تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔