ٹرمپ کی جانب سے ملک بدری کی پروازوں کو قبول کرنے سے انکار پر کولمبیا کے خلاف انتقامی اقدامات
ٹرمپ کی جانب سے ملک بدری کی پروازوں کو قبول کرنے سے انکار پر کولمبیا کے خلاف انتقامی اقدامات
کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے کہا کہ کولمبیا کے مہاجرین کو واپس لانے والی امریکی پروازوں کو کولمبیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بعد ازاں سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ انہیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ امریکہ سے واپسی کی دو پروازوں کو کولمبیا میں اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کولمبیا کے صدر پیٹرو کی جانب سے ان پروازوں کو قبول کرنے سے انکار نے امریکہ کی "قومی سلامتی” اور "عوامی تحفظ” کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی حکومت کو فوری طور پر "فوری اور فیصلہ کن جوابی اقدامات” کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کولمبیا پر ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے حالیہ جوابی اقدامات میں امریکہ میں داخل ہونے والے کولمبیا کے سامان پر 25 فیصد ٹیرف اور ایک ہفتے بعد ٹیرف کو 50 فیصد تک بلند کرنا؛ کولمبیا کے سرکاری اہلکاروں اور ان کے تمام اتحادیوں اور حامیوں پر پابندیاں عائد کرنا اور فوری طور پر ان کی ویزہ منسوخی ، کولمبیا کے تمام شہریوں اور سامان کے حوالے سےسرحدی تحفظ کے معائنے کو مضبوط کرنا، ” انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ” کے مطابق کولمبیا پر مالی اور بینکنگ پابندیاں عائد کرنا وغیرہ شامل ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عہدہ سنبھالنے کے بعد بڑے پیمانے پر غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک حالیہ بیان کے مطابق 23 اور 24 جنوری کو ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں افراد کو فوجی طیاروں کے ذریعے ان کے آبائی وطن واپس بھیجا گیا۔